مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ رہبر شہید نے ایسی فکری اور قومی میراث چھوڑی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے خود اعتمادی، عزت، آزادی، وطن دوستی اور استقامت کا سرچشمہ بنی رہے گی۔
اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ آج ایرانی عوام نے دارالحکومت تہران میں ایک ایسے عظیم رہنما کو رخصت کیا جس کی مثال تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بے مثال الوداعی منظر میں دعائیں لبوں پر تھیں اور نگاہیں افق تک پھیلی ہوئی تھیں، گویا تاریخ خود ایک لمحے کے لیے ٹھہر گئی ہو۔
انہوں نے کہا کہ رہبر شہید اگرچہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن وہ اپنے پیچھے صرف ایک نام یا ایک دور نہیں بلکہ خود اعتمادی، عزت پسندی، استقلال، وطن دوستی اور حوادث کے سامنے ثابت قدمی کی ایک عظیم میراث چھوڑ گئے ہیں۔
بقائی نے مزید کہا کہ جسم مٹی میں دفن ہو جاتے ہیں، مگر وہ افکار کبھی ختم نہیں ہوتے جو ایک قوم کو اپنے اوپر اعتماد، اپنی آزادی کی حفاظت اور اپنے اعلیٰ مقاصد پر ثابت قدم رہنے کی دعوت دیتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ